سب نے کیا سلام جدھر بھی نظر گئی
تیری یہ دشمنی تو بڑا کام کر گئی
آنکھوں میں خواب سینکڑوں پھرا کئے
یہ زندگی ہماری سڑک پر گزر گئی
پتھر ہیں اور کانٹے مِرے گھر کے آس پاس
تیری گلی تو آج بھی پھولوں سے بھر گئی
اس کی چمک دمک کو تو خطرہ نہ تھا مگر
دنیا یہ کس لیے مِری شہرت سے ڈر گئی
سوچا تھا گھر گیا تو خوشی لے کے جاؤں گا
رستے کی دھول صرف مِرے ساتھ گھر گئی
سیفی! کہا نہیں تھا ابھی اس نے الوداع
دیوار و در پہ پھر بھی اداسی بکھر گئی
سیفی سرونجی
No comments:
Post a Comment