Saturday, 20 November 2021

سب نے کیا سلام جدھر بھی نظر گئی

 سب نے کیا سلام جدھر بھی نظر گئی

تیری یہ دشمنی تو بڑا کام کر گئی

آنکھوں میں خواب سینکڑوں پھرا کئے

یہ زندگی ہماری سڑک پر گزر گئی

 پتھر ہیں اور کانٹے مِرے گھر کے آس پاس

تیری گلی تو آج بھی پھولوں سے بھر گئی

اس کی چمک دمک کو تو خطرہ نہ تھا مگر

دنیا یہ کس لیے مِری شہرت سے ڈر گئی

سوچا تھا گھر گیا تو خوشی لے کے جاؤں گا

رستے کی دھول صرف مِرے ساتھ گھر گئی

سیفی! کہا نہیں تھا ابھی اس نے الوداع

دیوار و در پہ پھر بھی اداسی بکھر گئی


سیفی سرونجی

No comments:

Post a Comment