دل کی درگاہ پہ منت کوئی مانی جائے
عمر بھر خاک اسی دشت کی چھانی جائے
روک لو آنکھ میں اک اشک کہیں ایسا نہ ہو
ہاتھ سے آخری پیاروں کی نشانی جائے
میرے قاتل کو مِرے مرنے کی سزا مت دینا
رائیگاں یوں ہی نہ پہچان پرانی جائے
پیاس نے کر دیا سیراب بہت دیر ہوئی
کوئی خیموں کی طرف لے کے نہ پانی جائے
زندگی تجھ سے تعلق کی کوئی راہ ملے
جی کو لاحق ہے جو احساسِ گرانی جائے
میری جھولی میں مجھے ڈال دے مولا ورنہ
صاف کہہ دے کہ تِرے در سے دِوانی جائے
نرجس افروز زیدی
No comments:
Post a Comment