Monday, 15 November 2021

دل کی درگاہ پہ منت کوئی مانی جائے

 دل کی درگاہ پہ منت کوئی مانی جائے

عمر بھر خاک اسی دشت کی چھانی جائے

روک لو آنکھ میں اک اشک کہیں ایسا نہ ہو

ہاتھ سے آخری پیاروں کی نشانی جائے

میرے قاتل کو مِرے مرنے کی سزا مت دینا

رائیگاں یوں ہی نہ پہچان پرانی جائے

پیاس نے کر دیا سیراب بہت دیر ہوئی

کوئی خیموں کی طرف لے کے نہ پانی جائے

زندگی تجھ سے تعلق کی کوئی راہ ملے

جی کو لاحق ہے جو احساسِ گرانی جائے

میری جھولی میں مجھے ڈال دے مولا ورنہ

صاف کہہ دے کہ تِرے در سے دِوانی جائے


نرجس افروز زیدی

No comments:

Post a Comment