Saturday, 20 November 2021

کیا چپ رہیں ہوا سے بغاوت نہیں کریں

 کیا چُپ رہیں ہوا سے بغاوت نہیں کریں

یعنی کسی چراغ کی بیعت نہیں کریں

جو جی میں آئے کیجیے لیکن یہ عرض ہے

اس شہر میں کسی سے محبت نہیں کریں

اک عشق کر لیا ہے تو کافی ہے عمر بھر

اب دوجی مرتبہ تو حماقت نہیں کریں

آنکھیں نہیں ہیں سحر کی پوری کتاب ہیں

میں کہہ رہی ہوں اِن کی تلاوت نہیں کریں

زہرا بتول! رِستا ہی رہنے دو یہ لہو

جب تک کہ زخم دل سے شکایت نہیں کریں


زہرا بتول

No comments:

Post a Comment