Friday, 19 November 2021

پھر اس دنیا سے امید وفا ہے

 پھر اس دنیا سے امیدِ وفا ہے

تجھے اے زندگی کیا ہو گیا ہے

بڑی ظالم نہایت بے وفا ہے

یہ دنیا پھر بھی کتنی خوشنما ہے

کوئی دیکھے تو بزمِ زندگی میں

اجالوں نے اندھیرا کر دیا ہے

خدا سے لوگ بھی خائف کبھی تھے

مگر لوگوں سے اب خائف خدا ہے

مزے پوچھو کچھ اس سے زندگی کے

حوادث میں جسے جینا پڑا ہے

مِرے پہلو میں دل ہے تو یقیناً

ازل ہی سے مگر ٹوٹا ہوا ہے

زبان و فن سے میں واقف نہیں ہوں

مگر وجدان میرا رہنما ہے

مِرے نقاد میری شاعری تو

مِرے ٹوٹے ہوئے دل کی صدا ہے

کہاں ہوں شاد میں تو شاد سا ہوں

وہ شاد خوش نوا تو مر چکا ہے


نریش کمار شاد

No comments:

Post a Comment