اب فراق و وصال بار ہوئے
عمر گزری ہے بے قرار ہوئے
اس کی بے اعتباریوں کے طفیل
کتنے ہی گل یہاں پہ خار ہوئے
خواب دو ایک ہی بچے زندہ
قتل باقی تو بے شمار ہوئے
کیوں رہا غیریت کا سا احساس
جب بھی ہم اس سے ہمکنار ہوئے
میرے اس کے معاملے اب تو
سارے عالم پہ آشکار ہوئے
کچھ نئی یہ ملامتیں تو نہیں
ایسے طعنے تو بار بار ہوئے
جرم کیا ہے پتہ نہیں اب تک
ہاں مگر روز سنگسار ہوئے
کتنے ہی طرحدار ہم جیسے
اس خرابے میں خاکسار ہوئے
کس قدر مبتلا تھے ہم خود میں
خود سے نکلے تو بے کنار ہوئے
میر و غالب کی خاکِ پا کے طفیل
ہم بھی کس درجہ آبدار ہوئے
جعفر عباس
No comments:
Post a Comment