فلک سے لوٹ آئی اور دعا کا دل نہیں دھڑکا
چمن خاموش تو کیوں ہے تِرا کیا دل نہیں دھڑکا
یہ دل بے چین کیوں ہے کیا محبت ہو گئی مجھ کو
کبھی پہلے کسی آہٹ پہ ایسا دل نہیں دھڑکا
ہوئے جذبات بے مایہ، نہ تھا دل میں خدا کا ڈر
کہ ان بے چین لمحوں میں دعا کا دل نہیں دھڑکا
تمہارے چاہت و اخلاص پر ایمان جب لائی
تمہارا نام سن کر کیوں یہ میرا دل نہیں دھڑکا
مِرا ٹوٹا ہوا دل ہے مِری دنیا ہے خالی سی
فسانہ میرا سن کر کیوں کسی کا دل نہیں دھڑکا
بہت ہے باغباں مایوس شاید اس لیے زارا
ہوا کی چھیڑ خانی پر گلوں کا دل نہیں دھڑکا
زارا فراز
No comments:
Post a Comment