دنیا میں تجھ سے تنگ ہوں، میرا مکان چھوڑ
چل چھوڑ، تُو ہی ٹھیک سہی، میری جان چھوڑ
کچھ واجبات رزق کے، کچھ قرض عشق کے
اےدل! یہ سب حساب چکا، اور دکان چھوڑ
ہے یوں کہ یہ جہان ترے بس کا ہے نہیں
اے شاہ! تُو نے آ کے مری دھوپ روک لی
میری زمین چھوڑ، مرا آسمان چھوڑ
جھوٹ اور سچ کے بیچ کا مسکن کوئی نہیں
ہر مصلحت سے جان چھڑا، درمیان چھوڑ
یہ عشق بے امان سہی، میری جان ہے
تُو جانتا نہیں ہے مرا امتحان چھوڑ
ویرانگاں کو یاد رکھیں تازہ بستیاں
آئندگاں کے واسطے اک داستان چھوڑ
وہ یادِ بے پناہ تعاقب میں آئی ہے
کتنا کہا تھا تجھ سے، مت اپنا نشان چھوڑ
سعود عثمانی
No comments:
Post a Comment