Friday, 14 November 2014

وہ تو کچھ اور ہی نکلا اسے سمجھا کیا تھا

وہ تو کچھ اور ہی نکلا اسے سمجھا کیا تھا
اس کو بھی ہم نے نہ جانا تھا  تو جانا کیا تھا
مدتوں بعد سرِ راہ ملاقات ہوئی
یاد یہ بھی نہیں آیا، اسے کہنا کیا تھا
کیا ضروری تھا یہی پھانس گلے میں رہتی
میں اسے بھول ہی جاتا، مِرا جاتا کیا تھا
تم نے اچھا کِیا دامن کو بچا کر گزرے
ہم تو بس راہ کی مٹی تھے، ہمارا کیا تھا
اس لیے آ کے تِرے شہر میں آباد ہوئے
ہم کو اس دشت نوردی سے بھی لینا کیا تھا
شوقِ نظارہ نے آنکھیں ہی نہیں کھلنے دیں
یہ کسی کو نہیں معلوم، کہ دیکھا کیا تھا
جال میں اس کے گرفتار تو ہونا تھا ہمیں
اس کے جادو سے نکلنے کا طریقہ کیا تھا
صبح پہچان نہ پایا کوئی صورت تیری
دلِ ہنگامہ طلب! رات، تماشا کیا تھا
صبح سورج بھی اسے دیکھنے آیا شہزادؔ
رات چمکا تھا جبیں پر جو ستارہ، کیا تھا

شہزاد احمد

No comments:

Post a Comment