Friday, 7 November 2014

مہر و مہتاب بنا ہوں نہ ستارا ہوا ہوں

مہر و مہتاب بنا ہوں، نہ ستارا ہوا ہوں
میں زمیں پر ہوں کہ افلاک کا مارا ہوا ہوں
قعرِ دریا میں ہیں موجوں سے جو پسپا نہ ہوئے
میں کنارے پہ جو بیٹھا ہوں تو ہارا ہوا ہوں
میں تو ذرہ تھا مگر اے مِرے خورشید خرام
تُو مجھے روند گیا ہے تو ستارا ہوا ہوں
تم نے ہر وار پہ مجھ سے ہی شکایت کی ہے
میں کہ ہر زخم پہ ممنون تمہارا ہوا ہوں
عشق میں حسن کے انداز سما جاتے ہیں
میں بھی تیری طرح خودبین و خود آرا ہوا ہوں
سفرِ ذات میں ایسا کبھی لگتا ہے فرازؔ
میں پیمبر کی طرح خود پہ اتارا ہوا ہوں

احمد فراز

No comments:

Post a Comment