Friday, 7 November 2014

نامہ بروں کو کب تک ہم کوئے یار بھیجیں

نامہ بروں کو کب تک ہم کوئے یار بھیجیں
وہ نامراد آئیں،۔ ہم بار بار بھیجیں
ہم کب سے منتظر ہیں اس موسمِ جنوں کے
جب زخم تہنیت کے یاروں کو یار بھیجیں
کیوں چشمِ شہریاراں ہے سوئے جاں فگاراں
کیا جامۂ دریدہ، اُن کو اُتار بھیجیں
آؤ اور آ کے گِن لو زخم اپنے دل زدوں کے
ہم کیا حساب رکھیں، ہم کیا شمار بھیجیں
یارانِ مہرباں کو گر فکر ہے ہماری
یا پندگر نہ بھیجیں یا غمگسار بھیجیں
جب یار کا سندیسہ آئے تو بات بھی ہو
یوں تو ہزار نامے خوباں ہزار بھیجیں
سن اے غزالِ رعنا! اب دل یہ چاہتا ہے
ہر روز اک غزل ہم  در مدحِ یار بھیجیں
دل یہ بھی چاہتا ہے ہجراں کے موسموں میں
کچھ قربتوں کی یادیں ہم دور پار بھیجیں
دل یہ بھی چاہتا ہے ان پھول سے لبوں کو
دستِ صبا پہ رکھ کر شبنم کے ہار بھیجیں
دل یہ بھی چاہتا ہے اس جانِ شاعری کو
کچھ شعر اپنے چن کر شاہکار بھیجیں
دل یہ بھی چاہتا ہے سب بھید چاہتوں کے
ہر مصلحت بھلا کر بے اختیار بھیجیں
دل یہ بھی چاہتا ہے پردے میں ہم سخن کے
دیوانگی کی باتیں دیوانہ وار بھیجیں
دل یہ بھی چاہتا ہے جب بے اثر ہو سب کچھ
تجھ کو بنا کے قاصد اے یادِ یار بھیجیں
دل یہ بھی چاہتا ہے یا چپ کا زہر پی لیں
یا دامن و گریباں ہم تار تار بھیجیں
دل جو بھی چاہتا ہو لیکن فرازؔ سوچو
ہم طوقِ آشنائی کیسے اتار بھیجیں

احمد فراز

No comments:

Post a Comment