Friday, 14 November 2014

سارے موسم تو گئے زرد بنا کر مجھ کو

سارے موسم تو گئے زرد بنا کر مجھ کو
تُو بہاروں کا خدا ہے تو ہرا کر مجھ کو
دیر سے گم ہوں میں بچپن کے ہرے جنگل میں
لے گئی تتلی کہاں ساتھ اڑا کر مجھ کو
جل رہا ہوں تِرے اندر کسی مشعل کی طرح
ڈوب جائے گا اندھیروں میں بجھا کر مجھ کو
دم گھٹا جاتا ہے اڑتی ہوئی مٹی میں مرا
اور تُو خوش ہے دریچے میں سجا کر مجھ کو
جب تعلق ہی نہیں کوئی مِرا ساحل سے
چاہے لے جائے جہاں لہر بہا کر مجھ کو
خود بخود سوکھ کے گر جاؤں گا خاورؔ میں بھی
کوئی دن اور نہ ٹہنی سے جدا کر مجھ کو

خاقان خاور

No comments:

Post a Comment