جس دن مائیں مر جاتی ہیں
آنکھیں ریت سے بھر جاتی ہیں
پھول کی صورت کھل کر یادیں
دل میں روز بکھر جاتی ہیں
تم کیوں باہر ہو، چڑیاں بھی
شام کو اپنے گھر جاتی ہیں
اڑ جاتی ہیں اوس کی بوندیں
پھول کو تنہا کر جاتی ہیں
ساحل کو تڑپا کر خاورؔ
لہریں روز گزر جاتی ہیں
آنکھیں ریت سے بھر جاتی ہیں
پھول کی صورت کھل کر یادیں
دل میں روز بکھر جاتی ہیں
تم کیوں باہر ہو، چڑیاں بھی
شام کو اپنے گھر جاتی ہیں
اڑ جاتی ہیں اوس کی بوندیں
پھول کو تنہا کر جاتی ہیں
ساحل کو تڑپا کر خاورؔ
لہریں روز گزر جاتی ہیں
خاقان خاور
No comments:
Post a Comment