بچھڑتا ہوں تو بوسہ اس جبیں پر چھوڑ دیتا ہوں
جہاں جو چیز سجتی ہے وہیں پر چھوڑ دیتا ہوں
وہ میرا تو نہیں، لیکن وہ میرا ہو بھی سکتا ہے
میں ناممکن کو بھی، حسنِ یقیں پر چھوڑ دیتا ہوں
اسی انکار کی دیوار سے رَستے نکلتے ہیں
میں اپنی بات کو اس کی "نہیں" پر چھوڑ دیتا ہوں
میں دنیا کو فقط سائے کی حد تک ساتھ رکھتا ہوں
جہاں یہ بوجھ لگتی ہو وہیں پر چھوڑ دیتا ہوں
کہاں تک مجھ سے ہو پاتی ہے، اس دل کی نگہ بانی
مکاں کی دیکھ بھال اس کے مکیں پر چھوڑ دیتا ہوں
کئی سنپولیے جب راہ کی دیوار بنتے ہیں
تو پھر اپنا عصاء میں بھی زمیں پر چھوڑ دیتا ہوں
جہاں جو چیز سجتی ہے وہیں پر چھوڑ دیتا ہوں
وہ میرا تو نہیں، لیکن وہ میرا ہو بھی سکتا ہے
میں ناممکن کو بھی، حسنِ یقیں پر چھوڑ دیتا ہوں
اسی انکار کی دیوار سے رَستے نکلتے ہیں
میں اپنی بات کو اس کی "نہیں" پر چھوڑ دیتا ہوں
میں دنیا کو فقط سائے کی حد تک ساتھ رکھتا ہوں
جہاں یہ بوجھ لگتی ہو وہیں پر چھوڑ دیتا ہوں
کہاں تک مجھ سے ہو پاتی ہے، اس دل کی نگہ بانی
مکاں کی دیکھ بھال اس کے مکیں پر چھوڑ دیتا ہوں
کئی سنپولیے جب راہ کی دیوار بنتے ہیں
تو پھر اپنا عصاء میں بھی زمیں پر چھوڑ دیتا ہوں
اشرف یوسفی
No comments:
Post a Comment