Friday, 14 November 2014

بچھڑتا ہوں تو بوسہ اس جبیں پر چھوڑ دیتا ہوں

بچھڑتا ہوں تو بوسہ اس جبیں پر چھوڑ دیتا ہوں
جہاں جو چیز سجتی ہے وہیں پر چھوڑ دیتا ہوں
وہ میرا تو نہیں، لیکن وہ میرا ہو بھی سکتا ہے
میں ناممکن کو بھی، حسنِ یقیں پر چھوڑ دیتا ہوں
اسی انکار کی دیوار سے رَستے نکلتے ہیں
میں اپنی بات کو اس کی "نہیں" پر چھوڑ دیتا ہوں
میں دنیا کو فقط سائے کی حد تک ساتھ رکھتا ہوں
جہاں یہ بوجھ لگتی ہو وہیں پر چھوڑ دیتا ہوں
کہاں تک مجھ سے ہو پاتی ہے، اس دل کی نگہ بانی
مکاں کی دیکھ بھال اس کے مکیں پر چھوڑ دیتا ہوں
کئی سنپولیے جب راہ کی دیوار بنتے ہیں
تو پھر اپنا عصاء میں بھی زمیں پر چھوڑ دیتا ہوں

اشرف یوسفی

No comments:

Post a Comment