Tuesday, 11 November 2014

منسوب تھے جو لوگ میری زندگی کے ساتھ

منسوب تھے جو لوگ میری زندگی کے ساتھ
اکثر وہی ملے ہیں بڑی بے رخی کے ساتھ
یوں تو میں ہنس پڑا ہوں تمہارے لیے، مگر
کتنے ستارے ٹوٹ پڑے اک ہنسی کے ساتھ
فرصت ملے تو اپنا گریباں بھی دیکھ لے
اے دوست! یوں نہ کھیل میری بے بسی کے ساتھ
مجبوریوں کی بات چلی ہے تو مئے کہاں
ہم نے پِیا ہے زہر بھی اکثر خوشی کے ساتھ
چہرے بدل بدل کے مجھے مل رہے ہیں لوگ
اتنا برا سلوک میری سادگی کے ساتھ
اِک سجدۂ خلوص کی قیمت فضائے خلد
یارب! نہ کر مذاق میری بندگی کے ساتھ
محسنؔ کرم بھی ہو جس میں خلوص بھی
مجھ کو غضب کا پیار ہے اس دشمنی کے ساتھ

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment