منسوب تھے جو لوگ میری زندگی کے ساتھ
اکثر وہی ملے ہیں بڑی بے رخی کے ساتھ
یوں تو میں ہنس پڑا ہوں تمہارے لیے، مگر
کتنے ستارے ٹوٹ پڑے اک ہنسی کے ساتھ
فرصت ملے تو اپنا گریباں بھی دیکھ لے
مجبوریوں کی بات چلی ہے تو مئے کہاں
ہم نے پِیا ہے زہر بھی اکثر خوشی کے ساتھ
چہرے بدل بدل کے مجھے مل رہے ہیں لوگ
اتنا برا سلوک میری سادگی کے ساتھ
اِک سجدۂ خلوص کی قیمت فضائے خلد
یارب! نہ کر مذاق میری بندگی کے ساتھ
محسنؔ کرم بھی ہو جس میں خلوص بھی
مجھ کو غضب کا پیار ہے اس دشمنی کے ساتھ
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment