کیا دکھ ہے سمندر کو، بتا بھی نہیں سکتا
آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا
تُو چھوڑ رہا ہے تو خطا اس میں تیری کیا
ہر شخص مرا ساتھ نبھا بھی نہیں سکتا
پیاسے رہے جاتے ہیں زمانے کے سوالات
گھر ڈھونڈ رہے ہیں مرا راتوں کے پجاری
میں ہوں کہ چراغوں بجھا بھی نہیں سکتا
ویسے تو ایک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے
ایسے کوئی طوفان، ہلا بھی نہیں سکتا
وسیم بریلوی
No comments:
Post a Comment