Friday, 14 November 2014

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا

کیا دکھ ہے سمندر کو، بتا بھی نہیں سکتا
آنسو کی طرح آنکھ تک آ بھی نہیں سکتا
تُو چھوڑ رہا ہے تو خطا اس میں تیری کیا
ہر شخص مرا ساتھ نبھا بھی نہیں سکتا
پیاسے رہے جاتے ہیں زمانے کے سوالات
کس کے لیے زندہ ہوں بتا بھی نہیں سکتا
گھر ڈھونڈ رہے ہیں مرا راتوں کے پجاری
میں ہوں کہ چراغوں بجھا بھی نہیں سکتا
ویسے تو ایک آنسو ہی بہا کر مجھے لے جائے
ایسے کوئی طوفان، ہلا بھی نہیں سکتا

وسیم بریلوی

No comments:

Post a Comment