وہ میرے گھر نہیں آتا میں اسکے گھر نہیں جاتا
مگر ان احتیاطوں سے تعلق مر نہیں جاتا
برے اچھے ہوں جیسے بھی ہوں سب رشتے یہیں کے ہیں
کسی کو ساتھ دنیا سے کوئی لے کر نہیں جاتا
گھروں کی تربیت کیا آ گئی ٹی وی کے ہاتھوں میں
کھلے تھے شہر میں سو دَر مگر ایک حد کے اندر ہی
کہاں جاتا میں اگر لوٹ کے پھر گھر نہیں جاتا
محبت کے یہ آنسوں ہیں انہیں آنکھوں میں رہنے دو
شریفوں کے گھروں کا مسئلہ باہر نہیں جاتا
وسیم بریلوی
No comments:
Post a Comment