Friday, 14 November 2014

وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتا

وہ میرے گھر نہیں آتا میں اسکے گھر نہیں جاتا
مگر ان احتیاطوں سے تعلق مر نہیں جاتا
برے اچھے ہوں جیسے بھی ہوں سب رشتے یہیں کے ہیں
کسی کو ساتھ دنیا سے کوئی لے کر نہیں جاتا
گھروں کی تربیت کیا آ گئی ٹی وی کے ہاتھوں میں
کوئی بچہ اب اپنے باپ کے اوپر نہیں جاتا
کھلے تھے شہر میں سو دَر مگر ایک حد کے اندر ہی
کہاں جاتا میں اگر لوٹ کے پھر گھر نہیں جاتا
محبت کے یہ آنسوں ہیں انہیں آنکھوں میں رہنے دو
شریفوں کے گھروں کا مسئلہ باہر نہیں جاتا​

وسیم بریلوی

No comments:

Post a Comment