لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں
اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں
میں نہ جگنو ہوں، دیا ہوں نہ کوئی تارا ہوں
روشنی والے مرے نام سے جلتے کیوں ہیں
نیند سے میرا تعلق ہی نہیں برسوں سے
موڑ ہوتا ہے جوانی کا سنبھلنے کے لیے
اور سب لوگ یہیں آ کے پھسلتے کیوں ہیں
مے کدہ ظرف کے معیار کا پیمانہ ہے
خالی شیشوں کی طرح لوگ اچھلتے کیوں ہیں
راحت اندوری
No comments:
Post a Comment