Friday, 14 November 2014

لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں

لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں
اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں
میں نہ جگنو ہوں، دیا ہوں نہ کوئی تارا ہوں
روشنی والے مرے نام سے جلتے کیوں ہیں
نیند سے میرا تعلق ہی نہیں برسوں سے
خواب آ آ کے مری چھت پہ ٹہلتے کیوں ہیں
موڑ ہوتا ہے جوانی کا سنبھلنے کے لیے
اور سب لوگ یہیں آ کے پھسلتے کیوں ہیں
مے کدہ ظرف کے معیار کا پیمانہ ہے
خالی شیشوں کی طرح لوگ اچھلتے کیوں ہیں​

راحت اندوری

No comments:

Post a Comment