جو منصبوں کے پجاری پہن کے آتے ہیں
کلاہ، طوق سے بھاری پہن کے آتے ہیں
امیرِ شہر! تری طرح قیمتی پوشاک
مری گلی میں بھکاری پہن کے آتے ہیں
یہی عقیق تھے شاہوں کے تاج کی زینت
ہمارے جسم کے داغوں پہ تبصرہ کرنے
قمیص لوگ ہماری پہن کے آتے ہیں
عبادتوں کا تحفظ بھی ان کے ذمے ہے
جو مسجدوں میں سفاری پہن کے آتے ہیں
یہ مسجدوں کی سیاست سیاہ چشمہ ہے
جسے امام بخاری پہن کے آتے ہیں
راحت اندوری
No comments:
Post a Comment