Monday, 7 November 2016

اس بے وفا مزاج کی اپنی روایتیں

اس بے وفا مزاج کی اپنی روایتیں
ہیں یاد تیرے شہر کی ساری عنایتیں
بےسایہ سب شجر تھے اور بے سائباں فلک
موجود تھیں وہاں تو ازل کی حکایتیں
انعام کی طرح سے ملا ہم کر ہر ستم
لیکن لبوں پہ لا نہ سکے تھے شکایتیں
جو خود ہدایتوں کے طلبگار تھے وہاں
کرتے تھے بات بات پر وہ بھی ہدایتیں
آدھی سی ایک بات تھی آدھا سا اک خواب
ہوتی رہیں وفا میں بھی اکثر کفایتیں
تجھ سے جدا ہوۓ تو لگا عمر کٹ گئی
کیا کیا ملیں نہ پیار میں ہم کو رعایتیں

نجمہ شاہین کھوسہ

No comments:

Post a Comment