اس بے وفا مزاج کی اپنی روایتیں
ہیں یاد تیرے شہر کی ساری عنایتیں
بےسایہ سب شجر تھے اور بے سائباں فلک
موجود تھیں وہاں تو ازل کی حکایتیں
انعام کی طرح سے ملا ہم کر ہر ستم
جو خود ہدایتوں کے طلبگار تھے وہاں
کرتے تھے بات بات پر وہ بھی ہدایتیں
آدھی سی ایک بات تھی آدھا سا اک خواب
ہوتی رہیں وفا میں بھی اکثر کفایتیں
تجھ سے جدا ہوۓ تو لگا عمر کٹ گئی
کیا کیا ملیں نہ پیار میں ہم کو رعایتیں
نجمہ شاہین کھوسہ
No comments:
Post a Comment