دردِ دل بانٹ کے خوشیوں کی دعا دیتا ہے
کیسا مسیحا ہے،۔ ہمیں کیسی دعا دیتا ہے
ہم نے دیکھے ہیں رہِ عشق میں خطرات بہت
کون دیوانہ ہمیں درسِ وفا دیتا ہے؟
عمر بھر غیر رہا، پَل کو بھی اپنا نہ ہوا
آدمی ایک ہی لمحے کی مسرت کے لیے
جانے کیوں عمر کا کردار گنوا دیتا ہے
موم کر دیتا ہے شاہینؔ یہ پتھر دل کو
عشق انسان کو معبود بنا دیتا ہے
نجمہ شاہین کھوسہ
No comments:
Post a Comment