Tuesday, 8 November 2016

تم تو اوروں پہ نہ پتھر پھینکو

تم تو اوروں پہ نہ پتھر پھینکو
آئینہ خانوں میں رہنے والو
کچھ تو ہو صورتِ تجدیدِ وفا
میں بھی سوچوں زرا تم بھی سوچو
میں بہر حال تمہارا ہوں، مگر
کاش تم بھی مجھے اپنا سمجھو
نہ سنو ٹوٹے ہوئے دل کی صدا
دو گھڑی پاس تو آ کر بیٹھو
کھول کر بند دریچہ ناصرؔ
ڈوبتے چاند کا منظر دیکھو

ناصر زیدی

No comments:

Post a Comment