تم تو اوروں پہ نہ پتھر پھینکو
آئینہ خانوں میں رہنے والو
کچھ تو ہو صورتِ تجدیدِ وفا
میں بھی سوچوں زرا تم بھی سوچو
میں بہر حال تمہارا ہوں، مگر
کاش تم بھی مجھے اپنا سمجھو
نہ سنو ٹوٹے ہوئے دل کی صدا
دو گھڑی پاس تو آ کر بیٹھو
کھول کر بند دریچہ ناصرؔ
ڈوبتے چاند کا منظر دیکھو
آئینہ خانوں میں رہنے والو
کچھ تو ہو صورتِ تجدیدِ وفا
میں بھی سوچوں زرا تم بھی سوچو
میں بہر حال تمہارا ہوں، مگر
کاش تم بھی مجھے اپنا سمجھو
نہ سنو ٹوٹے ہوئے دل کی صدا
دو گھڑی پاس تو آ کر بیٹھو
کھول کر بند دریچہ ناصرؔ
ڈوبتے چاند کا منظر دیکھو
ناصر زیدی
No comments:
Post a Comment