وہ میرے غم کا مداوا نہیں ہونے دیتا
ذرۂ درد کو صحرا نہیں ہونے دیتا
ساتھ رکھتا ہوں ہمیشہ تِری یادوں کی دھنک
میں کبھی خود کو اکیلا نہیں ہونے دیتا
زخم بھرتا ہے نیا زخم لگانے کے لیے
جس کے انجام سے ٹوٹے مِرا پندارِ انا
میں وہ آغاز دوبارہ نہیں ہونے دیتا
روک دیتا ہوں میں امڈتے ہوئے طوفاں ناصرؔ
قطرۂ اشک کو دریا نہیں ہونے دیتا
ناصر زیدی
No comments:
Post a Comment