Tuesday, 8 November 2016

وہ میرے غم کا مداوا نہیں ہونے دیتا

وہ میرے غم کا مداوا نہیں ہونے دیتا
ذرۂ درد کو صحرا نہیں ہونے دیتا
ساتھ رکھتا ہوں ہمیشہ تِری یادوں کی دھنک 
میں کبھی خود کو اکیلا نہیں ہونے دیتا
زخم بھرتا ہے نیا زخم لگانے کے لیے 
کیا مسیحا ہے کہ اچھا نہیں ہونے دیتا
جس کے انجام سے ٹوٹے مِرا پندارِ انا
میں وہ آغاز دوبارہ نہیں ہونے دیتا 
روک دیتا ہوں میں امڈتے ہوئے طوفاں ناصرؔ
قطرۂ اشک کو دریا نہیں ہونے دیتا 

ناصر زیدی

No comments:

Post a Comment