جانب دشت کبھی تم بھی نکل کر دیکھو
دوستو! آپلہ پائی کا عمل کر دیکھو
تم جو چاہو تو مِرے دل کو سکوں مل جائے
اپنا اندازِ نظر کچھ تو بدل کر دیکھو
میں تمہیں جینے کے انداز سکھا سکتا ہوں
چاندنی راتوں میں پھرتا ہے کوئی آوارہ
تم کو فرصت جو ملے گھر سے نکل کر دیکھو
فاصلے برسوں کے پل بھر میں سمٹ آئیں گے
آج کی شب میرے پہلو میں مچل کے دیکھو
اس کا چہرہ ہے کسی دشت کا سورج ناصرؔ
اس کی جانب کبھی دیکھو تو سنبھل کر دیکھو
ناصر زیدی
No comments:
Post a Comment