Tuesday, 8 November 2016

جانب دشت کبھی تم بھی نکل کر دیکھو

جانب دشت کبھی تم بھی نکل کر دیکھو
دوستو! آپلہ پائی کا عمل کر دیکھو
تم جو چاہو تو مِرے دل کو سکوں مل جائے
اپنا اندازِ نظر کچھ تو بدل کر دیکھو
میں تمہیں جینے کے انداز سکھا سکتا ہوں
ایک دو گام میرے ساتھ تو چل کر دیکھو
چاندنی راتوں میں پھرتا ہے کوئی آوارہ
تم کو فرصت جو ملے گھر سے نکل کر دیکھو
فاصلے برسوں کے پل بھر میں سمٹ آئیں گے
آج کی شب میرے پہلو میں مچل کے دیکھو
اس کا چہرہ ہے کسی دشت کا سورج ناصرؔ
اس کی جانب کبھی دیکھو تو سنبھل کر دیکھو

ناصر زیدی

No comments:

Post a Comment