Tuesday, 8 November 2016

ہم نہ کرنے کے کام کرتے ہیں

ہم نہ کرنے کے کام کرتے ہیں
اور عجب طرح کر گزرتے ہیں
مار ڈالیں اسے یہ ہے مقصود
سو میاں جی ہم اس پہ مرتے ہیں
میں‌ ہوں اس شہر میں مقیم جہاں
اپنے ہونے سے لوگ ڈرتے ہیں
رنگ ہی کیا تِرے سنورنے کا
ہم لہو تھوک کر سنورتے ہیں
اپنے گنگ و جمن میں زہر تھا کیا
ہم سمندر کا دم جو بھرتے ہیں
ناؤ سمجھیں بھنور کو جونؔ جو لوگ
بس وہی ڈوب کر ابھرتے ہیں

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment