Tuesday, 8 November 2016

حشر دل شہر میں بپا تو ہو

حشر دل شہر میں بپا تو ہو 
کوئی گھر سے نکل سکا تو ہو
لذتِ ترکِ مدعا ہو نصیب 
پر میاں کوئی مدعا تو ہو 
نگھروں کو تو راس آئے گی 
کوئی بلقیس بے سبا تو ہو 
خود کو حال اپنا میں ‌سناؤں جناب 
پر کبھی اپنا سامنا تو ہو 
ہم تو گھر میں‌ بھی خاک اڑا لیں ‌گے 
کوئی گھر سے گیا ہوا تو ہو 
بود، جز لمحہ کچھ نہیں ‌شاید 
کوئی لمحہ گزر رہا تو ہو 
اک خموشی میں سخن برپا 
کچھ کہا تو ہو، کچھ سنا تو ہو 

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment