Tuesday, 8 November 2016

شام تک میری بے کلی ہے شراب

شام تک میری بے کلی ہے شراب
شام کو میری سرخوشی ہے شراب
جہل واعظ کا اس کو راس آئے
صاحبو! میری آگہی ہے شراب
رنگ رس ہے میری رگوں میں رواں
بخدا میری زندگی ہے شراب
ناز ہے اپنی دلبری پہ مجھے
میرا دل، میری دلبری ہے شراب
ہے غنیمت جو ہوش میں نہیں میں
شیخ! میری بے حسی ہے شراب
حِس جو ہوتی تو جانے کیا کرتا
مفتیو! میری بے حسی ہے شراب

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment