شام تک میری بے کلی ہے شراب
شام کو میری سرخوشی ہے شراب
جہل واعظ کا اس کو راس آئے
صاحبو! میری آگہی ہے شراب
رنگ رس ہے میری رگوں میں رواں
ناز ہے اپنی دلبری پہ مجھے
میرا دل، میری دلبری ہے شراب
ہے غنیمت جو ہوش میں نہیں میں
شیخ! میری بے حسی ہے شراب
حِس جو ہوتی تو جانے کیا کرتا
مفتیو! میری بے حسی ہے شراب
جون ایلیا
No comments:
Post a Comment