مانا کسی کے ہجر کا شکوا کرے کوئی
ملنا بھی اک سزا ہو تو پھر کیا کرے کوئی
پردے ہیں بے نوید، دریچے ہیں بے صدا
کمروں میں وہ سکوں ہے کہ ٹہلا کرے کوئی
سب کچھ تباہ کر کے ہوئی ہے مجھے نصیب
اک وہ خوشی کہ صرف گوارا کرے کوئی
رقاصہ! آج ساق فشانانہ رقص کر💃
تا اپنے خوں کی آگ میں غوغا کرے کوئی
میری نگہ کی اُمتِ معجز نما میں ہے
پلکوں کا وہ جھکاؤ کہ دیکھا کرے کوئی
یہ خود سپردگی تو اک انعام ہے مگر
اس کا لحاظ رکھ کہ تقاضا کرے کوئی
ہے روشنی کے ہاتھ میں پرچھائیوں کا جال
اُس کو چراغ لے کے نہ ڈھونڈا کرے کوئی
ہو عشق بھی تو عقل کی بیداریوں کے ساتھ
فرصت بھی ہو تو خواب نہ دیکھا کرے کوئی
دفعِ مرض میں بے حسی و اَبلہی ہے شرط
بہتر یہ ہے کہ مجھ کو نہ اچھا کرے کوئی
غالب کو بندگی بہ صلہ خوانئ ندیم
اس نشۂ دو گونہ میں جُھوما کرے کوئی
جون ایلیا
No comments:
Post a Comment