Tuesday, 8 November 2016

سورج سر مژگاں ہے اندھیرے نہیں جاتے

سورج سرِ مژگاں ہے اندھیرے نہیں جاتے
ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے
تُو جانبِ صحرائے عدم چل دیا تنہا
بچے تو گلی میں بھی اکیلے نہیں جاتے
بے حرف صداؤں کے وہ محرم تیرے ہمدم
اسکول میں جاتے ہوئے دیکھے نہیں جاتے
آنکھوں میں چمکتے ہیں ترے نقش کف پا
اشکوں سے بھی یہ دیپ بجھائے نہیں جاتے
جو پھول سجانا تھے مجھے تیری جبیں پر
بھیگی ہوئی مٹی پہ بکھیرے نہیں جاتے
جو زخم برستے ہیں میرے ذہن پر اسلم
لکھنا تو بڑی بات ہے سوچے نہیں جاتے

اسلم کولسری

غزل کے مزید اشعار بھجوانے کے لیے میں جناب سلطان مغل صاحب کا مشکور ہوں۔ اس غزل کی تکمیل کا کریڈٹ انہی کے نام ہے، اس غزل کا بیک گراؤنڈ یہ ہے کہ اسلم بھائی نے اپنے جواں سال بیٹے کی ناگہانی وفات پر یہ اشعار کہے تھے، اب تو رضائے الٰہی سے اسلم بھائی بھی اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گئے، اللہ پاک ان سب کے درجات بلند فرمائے آمین۔

2 comments:

  1. سورج سر مژگاں ہے اندھیرے نہیں جاتے
    ایسے تو کبھی چھوڑ کے بیٹے نہیں جاتے
    تو جانب صحرائے عدم چل دیا تنہا
    بچے تو گلی میں بھی اکیلے نہیں جاتے
    بے حرف صداؤں کے وہ محرم تیرے ہمدم
    اسکول میں جاتے ہوئے دیکھے نہیں جاتے
    آنکھوں میں چمکتے ہیں ترے نقش کف پا
    اشکوں سے بھی یہ دیپ بجھائے نہیں جاتے
    جو پھول سجانا تھے مجھے تیری جبیں پر
    بھیگی ہوئی مٹی پہ بکھیرے نہیں جاتے
    جو زخم برستے ہیں میرے ذہن پر اسلم
    لکھنا تو بڑی بات ہے سوچے نہیں جاتے

    ReplyDelete