Thursday, 10 November 2016

جو بات کہنی ہے تم سے کہو کہوں کیسے

جو بات کہنی ہے تم سے کہو کہوں کیسے
فضا میں زہر ہے جاناں کہو جیوں کیسے
میں آسمان ہوں تم آسمان سے بھی بلند
میں سوچتا ہوں کہ تم کو میں چھو سکوں کیسے
میں اپنے آپ میں محدود ہوں یہ جانتا ہوں
جو تم کو چاہیے جاناں میں وہ بنوں کیسے
یہ ایک لہر نے ساحل کو کر دیا گیلا
تمہارے نام کو اب ریت پر لکھوں کیسے
یہ مسئلہ بھی تو مجھ جیسے سروقد کا ہی ہے
میں آسمان ہوں زیرِ زمیں رہوں کیسے
زمین والوں میں ہوتا تو پُر سکوں ہوتا
افق تمہارا ہے تم ہی کہو اڑوں کیسے
تمہارے ساتھ میں جو دن بسر نہیں ہوتا
بیاضِ دل میں اسے دن بھلا لکھوں کیسے
ابھی سے سوچتا ہوں مر کے کیسے ممکن ہے
تِری صدا کو بھلا قبر میں سنوں کیسے
یہ سوچ کر کہ مِری انگلیاں بھی آتش ہیں
میں تیرے ہاتھ پہ اس ہاتھ کو رکھوں کیسے
ہوا کے کان میں سرگوشیوں کا مطلب ہے
میں گیلی لکڑی ہوں تم ہی کہو جلوں کیسے
جو رات تُو نے مجھے پہلے دن ہی دیدی تھی
وہ رات ہجر کی صفدرؔ بسر کروں کیسے

صفدر ہمدانی

No comments:

Post a Comment