جو بات کہنی ہے تم سے کہو کہوں کیسے
فضا میں زہر ہے جاناں کہو جیوں کیسے
میں آسمان ہوں تم آسمان سے بھی بلند
میں سوچتا ہوں کہ تم کو میں چھو سکوں کیسے
میں اپنے آپ میں محدود ہوں یہ جانتا ہوں
یہ ایک لہر نے ساحل کو کر دیا گیلا
تمہارے نام کو اب ریت پر لکھوں کیسے
یہ مسئلہ بھی تو مجھ جیسے سروقد کا ہی ہے
میں آسمان ہوں زیرِ زمیں رہوں کیسے
زمین والوں میں ہوتا تو پُر سکوں ہوتا
افق تمہارا ہے تم ہی کہو اڑوں کیسے
تمہارے ساتھ میں جو دن بسر نہیں ہوتا
بیاضِ دل میں اسے دن بھلا لکھوں کیسے
ابھی سے سوچتا ہوں مر کے کیسے ممکن ہے
تِری صدا کو بھلا قبر میں سنوں کیسے
یہ سوچ کر کہ مِری انگلیاں بھی آتش ہیں
میں تیرے ہاتھ پہ اس ہاتھ کو رکھوں کیسے
ہوا کے کان میں سرگوشیوں کا مطلب ہے
میں گیلی لکڑی ہوں تم ہی کہو جلوں کیسے
جو رات تُو نے مجھے پہلے دن ہی دیدی تھی
وہ رات ہجر کی صفدرؔ بسر کروں کیسے
صفدر ہمدانی
No comments:
Post a Comment