Thursday, 10 November 2016

بیٹھا تھا میں لکھنے کے لئے ہجر کا قصہ

بیٹھا تھا میں لکھنے کے لئے ہجر کا قصہ
یہ کیا کہ کہانی مِری اپنی نکل آئی
الماری میں کل جو اس کے خط ڈھونڈ رہا تھا
تصویر پرانی مِری اپنی نکل آئی
تحقیق طلب تھی ابھی رومال کی خوشبو
اور اس پہ نشانی مِری اپنی نکل آئی
صفدرؔ وہ گلابوں سے بھرا شہر تھا اس کا
پر رات کی رانی مِری اپنی نکل آئی

صفدر ہمدانی

No comments:

Post a Comment