بیٹھا تھا میں لکھنے کے لئے ہجر کا قصہ
یہ کیا کہ کہانی مِری اپنی نکل آئی
الماری میں کل جو اس کے خط ڈھونڈ رہا تھا
تصویر پرانی مِری اپنی نکل آئی
تحقیق طلب تھی ابھی رومال کی خوشبو
صفدرؔ وہ گلابوں سے بھرا شہر تھا اس کا
پر رات کی رانی مِری اپنی نکل آئی
صفدر ہمدانی
No comments:
Post a Comment