Thursday, 10 November 2016

جس کو دیکھ کے شاعر تم للچائے بہت

جس کو دیکھ کے شاعر تم للچائے بہت 
اس میں بھی تھی روشنی کم اور سائے بہت
آئینے کا سحر ہے یا اندازِ نظر
اپنا عکس ہی اپنے روپ دکھائے بہت
کل جو چہرہ نظر نظر کا محور تھا
آج وہ چہرہ دیکھ کے جی بھر آئے بہت
جوڑے میں جو پھول تھا کل اب گود میں ہے
دیکھ کے اس کو بیتے دن یاد آئے بہت
تجھ سے تھا پیمانِ وفا، سو قائم ہے
پھول سے لوگوں نے پتھر برسائے بہت
چہرے کی خاموش لکیریں کہتی ہیں
شرط سخن ہے، کہنے کا پیرائے بہت
 ہونٹوں پر اک زخمِ تبسم آج بھی ہے
جسموں کی تکفین نے راز چھپائے بہت
بہرے جذبے روح کی چیخیں کیا سنتے
ٹھنڈی پٹڑی ریل تلے چلائے بہت
حبس سہی، کمرے میں رہو تو اچھا ہے
باہر تازہ ہوا تو دھول اڑائے بہت
اپنے وطن میں وہ سچا ہے، جو یارو
سچائی کو جھوٹے منہ بہلائے بہت
شاعرؔ اپنے گھر کا خدا ہی حافظ ہے
اس گھر کو ہیں گھیرے ہوئے ہمسائے بہت

حمایت علی شاعر

No comments:

Post a Comment