Thursday, 10 November 2016

طلسم جلوہ نہ سحر نظر نہ لطف خرام

طلسمِ جلوہ نہ سحرِ نظر نہ لطفِ خرام
فسونِ حسن سے آگے ہے دلبری کا مقام
ازل سے ڈھونڈ رہی ہے نگاہ انساں کی
وہ ایک دن کہ نہیں جس میں کوئی صبح و شام
نگاہِ شوق جہاں پڑ گئی وہی آغاز
نگاہِ حسن جہاں مل گئی وہی انجام
تِری نظر سے ہے ساقی حلال بادۂ ناب
ہے بے رخی سے تِری آبِ زندگی بھی حرام
کبھی وہ شام کہ تھا ایک صبح کا عالم
کبھی یہ صبح کہ شرمائے جس سے چہرۂ شام
نہ جانے پیار کی نظروں کے قافلے ہیں کہاں؟
کہ ایک عمر سے سونے پڑے ہیں یہ در و بام

صوفی تبسم

No comments:

Post a Comment