ہم کہاں کسی شے پر اختیار رکھتے ہیں
زندگی کا سانسوں پر انحصار رکھتے ہیں
دلفریب وعدوں سے ہمکنار رکھتے ہیں
وہ کہ ہم کو دانستہ بے قرار رکھتے ہیں
جن کا ربط ہوتا ہے کچھ حسین یادوں سے
وہ کبھی نہیں لاتے چہرے پر شکن کوئی
دل میں حوصلہ کتنا اہلِ دار رکھتے ہیں
جو بھی ہونا ہوتا ہے ہو کے رہتا ہے آخر
کس لیے ہم آنکھوں کو اشکبار رکھتے ہیں
لازماً انہیں ہوں گے ہم سے بھی گِلے، لیکن
ہم بھی شکوے اس دل میں بیشمار رکھتے ہیں
ان کو جب میسر ہے ہر خوشی زمانے کی
وہ کہ خود کو اس پر بھی بے قرار رکھتے ہیں
وہ مذاق اڑاتے ہیں جس لمحے بھی ممکن ہو
مجھ سے کتنی ہمدردی غمگسار رکھتے ہیں
مسکراتے رہتے ہیں کوئی بھی ہو عالم عرشؔ
ہم کہ خود کو غم میں بھی نغمہ بار رکھتے ہیں
عرش صہبائی
No comments:
Post a Comment