Monday, 7 November 2016

ہم کہاں کسی شے پر اختیار رکھتے ہیں

ہم کہاں کسی شے پر اختیار رکھتے ہیں
زندگی کا سانسوں پر انحصار رکھتے ہیں
دلفریب وعدوں سے ہمکنار رکھتے ہیں
وہ کہ ہم کو دانستہ بے قرار رکھتے ہیں
جن کا ربط ہوتا ہے کچھ حسین یادوں سے
ذہن و دل کو وہ لمحے خوشگوار رکھتے ہیں
وہ کبھی نہیں لاتے چہرے پر شکن کوئی
دل میں حوصلہ کتنا اہلِ دار رکھتے ہیں
جو بھی ہونا ہوتا ہے ہو کے رہتا ہے آخر
کس لیے ہم آنکھوں کو اشکبار رکھتے ہیں
لازماً انہیں ہوں گے ہم سے بھی گِلے، لیکن
ہم بھی شکوے اس دل میں بیشمار رکھتے ہیں
ان کو جب میسر ہے ہر خوشی زمانے کی
وہ کہ خود کو اس پر بھی بے قرار رکھتے ہیں
وہ مذاق اڑاتے ہیں جس لمحے بھی ممکن ہو
مجھ سے کتنی ہمدردی غمگسار رکھتے ہیں
مسکراتے رہتے ہیں کوئی بھی ہو عالم عرشؔ
ہم کہ خود کو غم میں بھی نغمہ بار رکھتے ہیں

عرش صہبائی

No comments:

Post a Comment