یہ کس کا تصور ہے کہ پھولوں کی طرح ہے
جو لمحہ ہے برسات کے جھولوں کی طرح ہے
جب بادِ صبا چلتی ہے اس جسم کو چھو کر
محسوس یہ ہوتا ہے کہ پھولوں کی طرح ہے
اک پل میں جو بنتے ہیں تو اک پل میں ہیں مٹتے
احساس کے دامن میں برابر ہے چبھن سی
آنکھوں میں جو آنسو ہے ببولوں کی طرح ہے
کانٹوں کے سوا کچھ بھی نہ حاصل ہوا ہم کو
سنتے تھے کہ یہ زندگی پھولوں کی طرح ہے
کلیوں کو اگر راس نہ آئے کسی صورت
وہ قطرۂ شبنم بھی ببولوں کی طرح ہے
حق گوئ جسے کہتے ہیں اس دور میں اے عرشؔ
گلشن میں وہ پژمُردہ سے پھولوں کی طرح ہے
عرش صہبائی
No comments:
Post a Comment