Monday, 7 November 2016

یہ کس کا تصور ہے کہ پھولوں کی طرح ہے

یہ کس کا تصور ہے کہ پھولوں کی طرح ہے
جو لمحہ ہے برسات کے جھولوں کی طرح ہے
جب بادِ صبا چلتی ہے اس جسم کو چھو کر
محسوس یہ ہوتا ہے کہ پھولوں کی طرح ہے
اک پل میں جو بنتے ہیں تو اک پل میں ہیں مٹتے
ہر شخص یہاں ایسے اصولوں کی طرح ہے
احساس کے دامن میں برابر ہے چبھن سی
آنکھوں میں جو آنسو ہے ببولوں کی طرح ہے
کانٹوں کے سوا کچھ بھی نہ حاصل ہوا ہم کو
سنتے تھے کہ یہ زندگی پھولوں کی طرح ہے
کلیوں کو اگر راس نہ آئے کسی صورت
وہ قطرۂ شبنم بھی ببولوں کی طرح ہے
حق گوئ جسے کہتے ہیں اس دور میں اے عرشؔ
گلشن میں وہ پژمُردہ سے پھولوں کی طرح ہے

عرش صہبائی

No comments:

Post a Comment