کاغذ قلم دوات اٹھانے کی عمر ہے
یہ عمر کب ہمارے کمانے کی عمر ہے
لے آئی چھت پہ کیوں مجھے بے وقت کی گھٹن
تیری تو خیر بام پہ آنے کی عمر ہے
تجھ سے بچھڑ کے بھی تجھے ملتا رہوں گا میں
پہلو میں رکھے پھول کا بیمار کیا کرے
اب آ رہے ہو جب مِرے جانے کی عمر ہے
اولاد کی طرح ہے محبت کا مجھ پہ حق
جب تک کسی کا بوجھ اٹھانے کی عمر ہے
غربت کو کیوں نہ میں بھی شرارت کا نام دوں
باغوں سے کچے آم چرانے کی عمر ہے
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment