مجھے جنت نہیں جانا
وہی سچ تھا تمہیں جو دار پر لایا
بنامِ دِیں تجارت کے دھنی کچھ لوگ دھوکے سے
مِرے معصوم لوگوں کو غلط رستے پہ ڈال آئے
تمہارے شہر میں جو آگ سُلگی تھی
ہمارے گھر کے دروازے پہ دستک دے چکی کب کی
ہمیں سالارِ لشکر نے پرائی آگ کا ایندھن بنا ڈالا
مقاصد کے بدلنے پر بحکمِ عالمی سوداگراں
سالار کے اک جانشیں نے آگ پر
وہ تیل ڈالا ہے
میرے اجداد کی دھرتی بجائے دانۂ گندم
زمیں سے خوں اگلتی ہے
فلک سے اک چمکتا دائرہ کچے مکاں مسمار کرتا ہے
تمہارے خون کی قیمت بڑی مہنگی پڑی ہم کو
بتاؤں کیا، یہ صورت ہے
کہ اپنے شہر کے بازار میں بھی خوف آتا ہے
نجانے کب کوئ جنت کا طالب مجھ کو بھی جنت میں لے جائے
“مجھے جنت نہیں جانا”
وہی سچ تھا تمہیں جو دار پر لایا
بنامِ دِیں تجارت کے دھنی کچھ لوگ دھوکے سے
مِرے معصوم لوگوں کو غلط رستے پہ ڈال آئے
تمہارے شہر میں جو آگ سُلگی تھی
ہمارے گھر کے دروازے پہ دستک دے چکی کب کی
ہمیں سالارِ لشکر نے پرائی آگ کا ایندھن بنا ڈالا
مقاصد کے بدلنے پر بحکمِ عالمی سوداگراں
سالار کے اک جانشیں نے آگ پر
وہ تیل ڈالا ہے
میرے اجداد کی دھرتی بجائے دانۂ گندم
زمیں سے خوں اگلتی ہے
فلک سے اک چمکتا دائرہ کچے مکاں مسمار کرتا ہے
تمہارے خون کی قیمت بڑی مہنگی پڑی ہم کو
بتاؤں کیا، یہ صورت ہے
کہ اپنے شہر کے بازار میں بھی خوف آتا ہے
نجانے کب کوئ جنت کا طالب مجھ کو بھی جنت میں لے جائے
“مجھے جنت نہیں جانا”
عابد حسین عابد
No comments:
Post a Comment