تم کون ہو؟
کہاں سے آئے ہو
تم کون ہو قاتل
تمہارا اس زمیں سے واسطہ کیا ہے
یہاں جو موت تم تقسیم کرتے ہو
تمہارا خوف ہے
اک دن تمہیں ہی مار ڈالے گا
ہمیں معلوم ہے تم کس کے کہنے پر
ہماری بستیاں ویران کرتے ہو
عبادت گاہ پر حملہ
بھرے بازار میں بارود سے جسموں کے سو ٹکڑے
کہیں معصوم بچی کے بدن کو چیرتی گولی
تمہارے کارنامے ہیں
مگر تم اس پہ نازاں ہو
جہالت اور کیا ہو گی
یقیں جانو تمہارے جسم میں اک دل نہیں
بے جان پتھر ہے
تمہاری فکر جامد ہے تمہاری سوچ پتھر ہے
بہادر ہو تو چھپ کے وار کیسا
سامنے آؤ
ہمیں میدان میں موجود پاؤ گے
ارادے گولیوں سے کب بھلا کمزور پڑتے ہیں
لہو نکلے تو اپنا راستہ بھی خود بناتا ہے
کہو، تم کون ہو آخر
تمہیں انساں کہوں تو بھیڑیئے ناراض ہوتے ہیں
بتاؤ کیا تمہاری مجرمانہ کاروائی
ارتقا کو روک سکتی ہے
سنو بزدل! کہ مستقبل ہمارا ہے
کہاں سے آئے ہو
تم کون ہو قاتل
تمہارا اس زمیں سے واسطہ کیا ہے
یہاں جو موت تم تقسیم کرتے ہو
تمہارا خوف ہے
اک دن تمہیں ہی مار ڈالے گا
ہمیں معلوم ہے تم کس کے کہنے پر
ہماری بستیاں ویران کرتے ہو
عبادت گاہ پر حملہ
بھرے بازار میں بارود سے جسموں کے سو ٹکڑے
کہیں معصوم بچی کے بدن کو چیرتی گولی
تمہارے کارنامے ہیں
مگر تم اس پہ نازاں ہو
جہالت اور کیا ہو گی
یقیں جانو تمہارے جسم میں اک دل نہیں
بے جان پتھر ہے
تمہاری فکر جامد ہے تمہاری سوچ پتھر ہے
بہادر ہو تو چھپ کے وار کیسا
سامنے آؤ
ہمیں میدان میں موجود پاؤ گے
ارادے گولیوں سے کب بھلا کمزور پڑتے ہیں
لہو نکلے تو اپنا راستہ بھی خود بناتا ہے
کہو، تم کون ہو آخر
تمہیں انساں کہوں تو بھیڑیئے ناراض ہوتے ہیں
بتاؤ کیا تمہاری مجرمانہ کاروائی
ارتقا کو روک سکتی ہے
سنو بزدل! کہ مستقبل ہمارا ہے
عابد حسین عابد
No comments:
Post a Comment