Wednesday, 9 November 2016

صاف ترے انکار سے بھی

صاف تِرے انکار سے بھی
خوش ہوں اپنی ہار سے بھی
اور کہاں لے جاؤ گے
لگ گئے ہم دیوار سے بھی
روز ہوا لے آتی ہے
قصے کچھ اس پار سے بھی
مجبوری بن جاتے ہیں
ہم جیسے بیکار سے بھی
ناحق تم نے زہر دیا
مر جاتے ہم پیار سے بھی
چپ رہنے سے درد بڑھے
خوفزدہ اظہار سے بھی
کاش کہیں کچھ بیتے دن
مل جاتے بازار سے بھی

عابد حسین عابد

No comments:

Post a Comment