میرے جینے کا طور کچھ بھی نہیں
سانس چلتی ہے، اور کچھ بھی نہیں
زندگی دیکھنے میں سب کچھ ہے
جب سمجھئے بغور کچھ بھی نہیں
دل لگا کر پھنسے ہم آفت میں
آپ ہیں آپ، آپ سب کچھ ہیں
اور میں اور، اور کچھ بھی نہیں
ہم اگر ہیں تو جھیل ڈالیں گے
دل اگر ہے تو جور کچھ بھی نہیں
شعر لکھتے ہیں شعر پڑھتے ہیں
نوحؔ میں وصف اور کچھ بھی نہیں
نوح ناروی
No comments:
Post a Comment