آماجگاہِ تیرِ ستم کون ہم کہ آپ
پھر پوچھتے ہیں آپ سے ہم، کون ہم کہ آپ
دل حسن پہ نثار تو کر دوں بجا درست
جھیلے گا اس کے بعد ستم کون، ہم کہ آپ
دونوں نے اتحاد کی کوشش ضرور کی
روزِ جزا جو داد طلب ہوں گے داد خواہ
اس دن کرے گا عذرِ ستم کون ہم کہ آپ
طوفانِ اشکِ نوحؔ کا رکنا محال ہے
انجام دے یہ کارِ اہم کون ہم کہ آپ
نوح ناروی
No comments:
Post a Comment