یہ جو ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں رات کو
رات کیا سمجھ سکے ان معاملات کو
یہ سکونِ بے جہت، یہ کشش عجیب ہے
تجھ میں بند کر دیا کس نے شش جہات کو
آنکھ جب اٹھے بھر آئے، شعر اب کہا نہ جائے
کیا ہوئیں روایتیں، اب ہیں کیسی شکایتیں
عشقِ نامراد سے، حسنِ بے ثبات کو
اے بہارِ سرگراں! تو خزاںؔ نصیب ہے
اور ہم ترس گئے تیرے التفات کو
محبوب خزاں
No comments:
Post a Comment