تم مِرے پاس رہو جسم کی گرمی بخشو
سرد ہے رات بہت گھر سے نہ باہر نکلو
دودھیا چاندنی بستر پہ کہاں سے آئی
پھر کوئی چاند نہ نکلا ہو گلی میں دیکھو
سر پہ کب کون کہاں سنگِ ملامت مارے
کوئی بھونرا نہ کہیں پھول کا رس پی جائے
اپنی مدہوش نگاہوں کے دریچے کھولو
جانے کس منزلِ بے نام کی جانب نکلوں
اپنی تنہائی سے ڈرتا ہوں مِرے ساتھ رہو
برف اک روز پہاڑوں کی پگھل جائے گی
سرد مہرئ زمانہ کی شکایت نہ کرو
کتنی بیتی ہوئی صدیوں کی کہانی ہوں شمیمؔ
میرے چہرے کہ یہ بگڑے ہوئی تحریر پڑھو
احمد شمیم
No comments:
Post a Comment