Sunday, 6 November 2016

اتر کے دھوپ جب آئے گی شب کے زینے سے

اتر کے دھوپ جب آۓ گی شب کے زینے سے
اڑے گی خون کی خوشبو مِرے پسینے سے
میں وہ غریب کہ ہوں چند بے صدا الفاظ
ادا ہوئی نہ کوئی بات بھی قرینے سے
گزشتہ رات بہت جھوم کے گھٹا برسی
مگر وہ آگ جو لپٹی ہوئی ہے سینے سے
لہو کا چیختا دریا دھیان میں رکھنا
کسی کی پیاس بجھی ہے نہ اوس پینے سے
وہ سانپ جس کو بہت دور دفن کر آۓ
پلٹ نہ آۓ کہیں وقت کے دفینے سے
دلوں کو موجِ بلا راس آ گئی شاید
رہی نہ کوئی شکایت کسی سفینے سے
وجود شعلۂ سیال ہو گیا ہے شمیمؔ
اٹھی ہے آنچ عجب دل کے آبگینے سے

احمد شمیم

No comments:

Post a Comment