Thursday, 10 November 2016

سمے کی بے کلی بڑھنے لگی ہے

بے کلی

سمے کی بے کلی بڑھنے لگی ہے
لہو میں درد پیچ و تاب کھاتا ہے
کواڑوں پر اُگی خاموشیوں کے لب کھلے ہیں
اور درختوں پر جمی شاموں میں کوئی مضطرب کروٹ بدلتا ہے

بڑی مدت سے بچھڑی آرزو
پردیس سے واپس سیہ ملبوس اوڑھے لوٹ آئی ہے
پرانے راستے پھر سے ہمارا دل مسلتے ہیں
نگاہیں آس سے اکثر گلے لگ لگ کے روتی ہیں
اور اب تو خواب بھی ہم سے گریزاں ہیں
سمے کی بے کلی بڑھنے لگی ہے
دل پریشاں ہے

عدیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment