Thursday, 10 November 2016

سارے جہان کو عدیم واقف حال کر دیا

سارے جہان کو عدیم واقفِ حال کر دیا
تحفہ ذرا سا تھا مگر اس نے اچھال کر دیا
اس کی نظر کو داد دو، جس نے یہ حال کر دیا
میرا کمال کچھ نہیں، اس نے کمال کر دیا
ایک نگاہ کا اثر ،ظرف بہ ظرف مختلف
اِس کو نڈھال کر دیا، اُس کو نہال کر دیا
آگ کی شہ پہ رات بھر نور بہت بنے دیئے
صبح کی ایک پھونک نے سب کو سفال کر دیا
یہ تو ہوا ہتھیلیاں گنبدِ سرخ بن گئیں
ہاتھوں کی اوٹ نے مگر رکھا سنبھال کر دِیا
شمع بھی تھی، چراغ بھی، دونوں ہوا سے بجھ گئے
میں نے جلا لیا مگر دل کا نکال کر دِیا
موت سے ایک پل ادھر پھر سے حیات مل گئی
اس نے تعلقات کو پھر سے بحال کر دیا
اوک بنا بنا کے ہم دستِ دعا کو تھک گئے
جو بھی ہمیں دیا گیا، کاسے میں ڈال کر دیا
کوئی تو اس کی قدر کر، کوئی تو اس کو اجر دے
اس نے عدیمؔ تجھ کو دل کتنوں کو ٹال کر دیا
بات سخن میں چل پڑی، اس نے عدیمؔ مان لی
میں نے فراق کاٹ کر، اس کو وصال کر دیا

عدیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment