Thursday, 10 November 2016

ہم محبت کی تب و تاب کے مارے ہوئے ہیں

ہم محبت کی تب و تاب کے مارے ہوئے ہیں
سادہ دل ہیں اسی زہراب کے مارے ہوئے
خواہشاتِ دلِ بے تاب کے مارے ہوئے ہیں
ایک امید کے، اک خواب کے مارے ہوئے ہیں
چشمِ قاتل کی مۓ ناب کے مارے ہوئے
ہم اسی دیدۂ مہتاب کے مارے ہوئے ہیں
ریشم و اطلس و کمخواب کے مارے ہوئے ہیں
اہلِ دنیا انہی اسباب کے مارے ہوئے ہیں
اور ہوں گے وہ جو دشمن سے تہِ تیغ ہوئے
ہم عدو کے نہیں، احباب کے مارے ہوئے ہیں
نام دشمن کا بھی لیتے ہیں تو اعزاز کے ساتھ
ہم سخن ور ہیں کہ آداب کے مارے ہوئے ہیں

عبدالرحمان واصف

No comments:

Post a Comment