Thursday, 10 November 2016

حالات نہ بدلیں تو اسی بات پہ رونا

حالات نہ بدلیں تو اسی بات پہ رونا
بدلیں، تو بدلتے ہوئے حالات پہ رونا
پڑ جائے گا تم کو بھی غمِ ذات پہ رونا
جس بات پہ ہنستے ہو اسی بات پہ رونا
اظہار میں قوت ہے تو مل جائے گا موضوع
سوکھا نہیں پڑتا ہے تو برسات پہ رونا
اس شہر میں سب ٹھیک ہے، کیا سوچ رہے ہو
رونا ہے تو اپنے ہی خیالات پہ رونا
میں آپ کی اس سرد مزاجی پہ ہنسوں گا
اور آپ مِری شدتِ جذبات پہ رونا

شجاع خاور

No comments:

Post a Comment