میرا دل ہاتھوں میں لے لو کیا تمہارا جائے گا
اور میرا ہی سمرقند و بخارا جائے گا
تشنگی کا ایک ایک پہلو ابھارا جائے گا
وصل کی شب کو بھی فرقت میں گزارا جائے گا
کل یہ منصوبہ بنایا ہم نے پی لینے کے بعد
ڈوبنے سے فائدہ بھی ہو گا اور نقصان بھی
ذہن سے طوفان، ہاتھوں سے کنارا جائے گا
درد جائے گا تو کچھ کچھ جائے گا، پر دیکھنا
چین جب جائے گا تو سارا کا سارا جائے گا
کچھ نہیں بولا تو مر جائے گا اندر سے شجاعؔ
اور اگر بولا تو پھر باہر سے مارا جائے گا
شجاع خاور
No comments:
Post a Comment