پار اترنے کے لیے تو خیر بالکل چاہیے
بیچ دریا ڈوبنا بھی ہو تو اک پل چاہیے
فکر تو اپنی بہت ہے بس تغزل چاہیے
نالۂ بلبل کو گویا خندۂ گل چاہیے
شخصیت میں اپنی وہ پہلی سی گہرائی نہیں
جن کو قدرت ہے تخیل پر انہیں دکھتا نہیں
جن کی آنکھیں ٹھیک ہیں ان کو تخیل چاہیے
روز ہمدردی جتانے کے لئے آتے ہیں لوگ
موت کے بعد اب ہمیں جینا نہ بالکل چاہیے
شجاع خاور
No comments:
Post a Comment