کس شوخ کی آنکھوں کے رنگین اشارے ہیں
جس سمت نظر اٹھی مدہوش نظارے ہیں
دن بھر تو وہ آنکھوں سے بس دور ہی رہتے ہیں
آ جاتے ہیں خوابوں میں یہ بھاگ ہمارے ہیں
تنہائی کے موسم کی راتیں ہیں بہت لمبی
ہستی کے سمندر میں اک سانس کی کشتی ہے
ہر سُو ہیں بھنور رقصاں اور دور کنارے ہیں
یہ دیس مِری جنت،۔ یہ دیس م،را کعبہ
جنگل بھی دمکتے ہیں اور شہر بھی پیارے ہیں
طوفان کا احساں ہے موجوں کی عنایت ہے
کیا ٹوٹے سفینے تھے جو پار اتارے ہیں
سعادت سعید
No comments:
Post a Comment