Thursday, 10 November 2016

کس شوخ کی آنکھوں کے رنگین اشارے ہیں

کس شوخ کی آنکھوں کے رنگین اشارے ہیں
جس سمت نظر اٹھی مدہوش نظارے ہیں
دن بھر تو وہ آنکھوں سے بس دور ہی رہتے ہیں
آ جاتے ہیں خوابوں میں یہ بھاگ ہمارے ہیں
تنہائی کے موسم کی راتیں ہیں بہت لمبی
دل یاد سے بوجھل ہے پلکوں پہ ستارے ہیں
ہستی کے سمندر میں اک سانس کی کشتی ہے
ہر سُو ہیں بھنور رقصاں اور دور کنارے ہیں
یہ دیس مِری جنت،۔ یہ دیس م،را کعبہ
جنگل بھی دمکتے ہیں اور شہر بھی پیارے ہیں
طوفان کا احساں ہے موجوں کی عنایت ہے
کیا ٹوٹے سفینے تھے جو پار اتارے ہیں

سعادت سعید

No comments:

Post a Comment